سترہ کے مسائل و احکام | نماز میں سترہ نہ رکھنے کا حکم | فضیلۃ الشیخ عبدالرحمن السدیس حفظہ اللہ
Oct 30, 2025•Channel
AI Analysis
Data from YouTube Data API v3•Updated Just now
Video Overview
Video Details
Published8 months ago
Duration9:07
Video ID4o2G2tVg_C8
Languageen-US
CategoryEducation
PrivacyPublic
Made for KidsNo
Video TypeRegular Video
Performance Metrics
Views173
Likes16
Comments1
Engagement Rate9.83%
Likes per 100 views9.25
Comments per 1K views5.78
Video Tags
Description
نماز میں سترہ (سامنے کوئی چیز رکھنا) نبی کریم ﷺ کی مؤکد سنت ہے،
لیکن افسوس! آج بہت سے نمازی اس اہم سنت کو بھول چکے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرحمن السدیس حفظہ اللہ نے اس بیان میں تفصیل سے وضاحت کی کہ:
📌 سترہ کا مقصد کیا ہے؟
📌 سترہ نہ رکھنے والے پر کیا وعید ہے؟
📌 سترہ کی اونچائی، فاصلہ اور حدود کیا ہیں؟
📖 حدیث مبارکہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جب کوئی شخص نماز پڑھتا ہے تو اپنے سامنے سترہ رکھے، اور اگر کوئی گزرنا چاہے تو اسے روک دے، ورنہ شیطان اس کے آگے سے گزر جائے گا۔"
(صحیح بخاری: 510)
🕌 نبی ﷺ کے عمل سے واضح ہے کہ:
سترہ کے بغیر نماز ناقص مانی جاتی ہے۔
اگر کوئی شخص سترہ کے آگے سے گزرے تو وہ گناہگار ہے۔
امام کا سترہ، مقتدیوں کے لیے بھی کافی ہوتا ہے۔
📿 اہم نکات:
سترہ رکھنا سنت مؤکدہ ہے، خصوصاً اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے۔
دیوار، کرسی، لاٹھی، بیگ یا میز — سب سترہ بن سکتے ہیں۔
سترہ اور نمازی کے درمیان تقریباً تین ہاتھ کا فاصلہ ہونا چاہیے۔
اگر کوئی آگے سے گزرنے لگے تو ہاتھ سے روکے، کیونکہ یہ شیطان کا عمل ہے۔
🔖 Hashtags:
#IslamicVideo #Namaz #Sutra #Salah #Hadith #Sunnat #IIRC #IslamicReminder