Mohammad Sadiq on Afghanistan Terrorism, Khawarij Ideology and Drug Networks | ISPR

May 23, 2026Channel
AI Analysis
Data from YouTube Data API v3Updated Just now

Video Overview

Video Details

Published1 month ago
Duration3:49
Video IDSQ765qlqth8
Languageur
CategoryNews & Politics
PrivacyPublic
Made for KidsNo
Video TypeRegular Video

Performance Metrics

Views2.1K
Likes184
Comments38
Engagement Rate10.47%
Likes per 100 views8.68
Comments per 1K views17.92

Description

🔰 وزیرِ اعظم کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ، ایمبیسیڈر محمد صادق، کی آئی ایس پی آر کے زیراہتمام ورکشاپ میں ملک بھر کے دو سو سے زائد جامعات کے وائس چانسلرز، رجسٹرارز، ڈینز اور سینئر پروفیسرز کے ساتھ افغانستان سے دہشت گردی اور اُس کے نظریاتی محرکات کے موضوعِ پر نشست‼️ ایمبیسیڈر محمد صادق نے کہا کہ افغانستان سے دہشت گردی کوئی نئی بات نہیں، یہ سلسلہ سوویت یونین کے افغانستان کے اؔنے سے پہلے سے جاری ہے، تاہم وقت کے ساتھ یہ مزید منظم شکل اختیار کر گیا۔ اُن کے مطابق ماضی میں افغانستان میں دہشت گردی زیادہ تر قوم پرستانہ تھی، مگر اب یہ خوارجی نظریے میں تبدیل ہو گئی۔ ایمبیسیڈر محمد صادق کے مطابق خوارجی عناصر اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو غیر مسلم تصور کرتے ہیں اور صرف خود کو “حقیقی مسلمان” قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے پہلے افغانستان نسبتاً بہتر صورتحال میں تھا، مگر گزشتہ پانچ برسوں میں ملک دوبارہ دو دہائیاں پیچھے چلا گیا ہے۔ افغانستان میں تعلیم پر پابندیاں عائد کی گئیں جبکہ 20 ہزار سے زائد مدارس قائم کیے گئے جہاں “فدائی تعلیم” کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ایمبیسیڈر محمد صادق نے کہا کہ طالبان کی قیادت نے اپنے لیے الگ قانونی نظام متعارف کر رکھا ہے، جہاں اُن کو کوئی عدالت طلب نہیں کر سکتی جبکہ عام افغان شہریوں کو سرِ عام کوڑے مارے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان دنیا میں منشیات پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے اور سالانہ 5 سے 6 ارب ڈالر کی آمدن منشیات سے حاصل کی جاتی ہے۔ اور افغانستان میں سرگرم عسکریت پسند نیٹ ورکس کی مالی معاونت بڑی حد تک اِسی منشیات کی اسمگلنگ سے ہوتی ہے، اور اگر اس نیٹ ورک کو روکا جائے تو دہشت گردی ختم ہو سکتی ہے۔

Related Videos

More videos from ISPR Official